Al-Hadid
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 28 لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ ٱلْكِتَـٰبِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍ مِّن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ 29
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، وہ دے گا تمھیں دو حصے اپنی رحمت سے اور بنائے گا تمھارے لیے ایسا نور کہ تم چلو گے ساتھ اس کے، اور وہ بخش دے گا تمھیں، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (28) تاکہ جان لیں اہل کتاب یہ کہ بلاشبہ وہ نہیں قدرت رکھتے اوپر کسی چیز کے اللہ کے فضل سے، اور یہ کہ بلاشبہ (تمام) فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(29)
[28] اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ iپر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمدﷺ پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا:﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾ ’’اپنی رحمت سے دو گنا اجر ۔‘‘ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں: ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمدﷺپر ایمان لانے کے بدلے میں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے، نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان اور تقویٰ کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے ﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں دو گنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگر عطائے ثواب میں تکرار ہے۔﴿ وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ ﴾ یعنی وہ تمھیں علم، ہدایت اور روشنی عطا کرے گا، جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔
[29]﴿ لِّئَلَّا يَعۡلَمَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَلَّا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرہ ور ہوتا ہے ، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں:﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى﴾(البقرہ:2؍111) ’’جنت میں داخل نہیں ہو گا سوائے یہودی اور نصرانی کے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دو گنی رحمت، نور اور مغفرت ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے ﴿ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘‘ جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔