Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hadid
Sura ta 57

Al-Hadid

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 16–17

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ 16 ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ 17

کیا نہیں وقت آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے یہ کہ جھک جائیں ان کے دل واسطے ذکر الٰہی کے اور (واسطے اس کے) جو نازل ہوا حق سے اور نہ ہوں وہ مانند ان لوگوں کے جو دیے گئے کتاب اس سے پہلے؟ پس لمبی ہو گئی اوپر ان کے مدت تو سخت ہو گئے ان کے دل اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (16) تم جان لو کہ بلاشبہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت کے، تحقیق بیان کیں ہم نے تمھارے لیے آیتیں تاکہ تم عقل پکڑو (17)

[16] جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات، منافقین اور منافقات کا کیا حال ہو گا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکساری کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر، ان کے دلوں میں خشوع و انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ﴾ یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں ۔اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامر و نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اس سے ڈر جائیں اور اس کے سامنے سر خم کر دیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کتاب و حکمت کے لیے جو اس نے نازل فرمائی ہے، خشوع و خضوع کی ترغیب ہے، نیز اس امر کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اہل ایمان مواعظ الٰہیہ اور احکام شرعیہ سے نصیحت حاصل کریں اور ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ ﴿ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ﴾ یعنی ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی جو خشوع قلب اور کامل اطاعت و تسلیم کی موجب تھی، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے نہ دائمی طور پر اس پر قائم رہے، بلکہ زمانے گزر گئے اور ان کی غفلت جڑ پکڑ گئی، ان کا ایمان کمزور اور ایقان زائل ہو گیا۔ ﴿فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ١ؕ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘ پس دل ہر وقت اس امر کے محتاج ہیں کہ وہ اس کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور حکمت کی گفتگو کرتے رہیں، اس کتاب سے غفلت نہ برتی جائے، کیونکہ یہ چیز دل کی سختی اور آنکھ کے جمود کا سبب بنتی ہے۔

[17]﴿ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا١ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً ہم نے تو تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔‘‘ کیونکہ آیات الٰہی مطالب الٰہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور ، پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد، بارش کے پانی کے ذریعے سے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت رکھتی ہے جو اس نے اپنے رسول (ﷺ) پر نازل کیا۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی آیات الٰہی سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، وہ عقل سے بے بہرہ ہے۔