Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ar-Rahmaan
Sura ta 55

Ar-Rahmaan

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 14–16

خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِن صَلْصَـٰلٍ كَٱلْفَخَّارِ 14 وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ 15 فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 16

اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (14) اور اس نے پیدا کیا جن کو شعلۂ آتش سے (15) پس (کون)کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (16)

[14] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کے جد امجد حضرت آدمu کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّؔارِ﴾ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی ۔

[15]﴿وَخَلَقَ الۡجَآنَّ ﴾ اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا۔ ﴿مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴾ آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ آدمی کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے، بخلاف جنات کے عنصر ، یعنی آگ کے جو خفت، طیش شر اور فساد کا محل ہے۔

[16] جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا :﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾’’( اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘