Az-Zukhruf
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
وَلَوْلَآ أَن يَكُونَ ٱلنَّاسُ أُمَّةً وَٰحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِٱلرَّحْمَـٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ 33 وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَٰبًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِـُٔونَ 34 وَزُخْرُفًا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَٱلْـَٔاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ 35
اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ ہو جائیں گے لوگ ایک ہی گروہ (متفق کفر پر) تو بنا دیتے ہم ان لوگوں کے لیے جو کفر کرتے ہیں ساتھ رحمن کے، (یعنی ) ان کے گھروں کے لیے چھتیں چاندی سے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ اوپر چڑھتے (33) اور ان کے گھروں کے لیے دروازے اور تخت بھی، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں (34) اور سونے کے بھی، اور نہیں ہے سب کچھ یہ مگر سامان زندگانیٔ دنیا کا اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے (35)
[35-33] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اپنے بندوں پر اس کا لطف و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی، جس کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے تو ان لوگوں پر جنھوں نے کفر کیا، دنیا کو بہت زیادہ کشادہ کر دیتا اور بنا دیتا ﴿لِبُيُوۡتِهِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ ﴾ ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی چاندی كى۔ ﴿عَلَيۡهَا يَظۡهَرُوۡنَ﴾ جس کے ذریعے سے وہ اپنی چھتوں پر چڑھتے۔ ﴿وَلِبُيُوۡتِهِمۡ اَبۡوَابًا وَّسُرُرًا عَلَيۡهَا يَتَّـكِــُٔوۡنَ﴾اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں سب چاندی کے ہوتے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے بنا دیتا ﴿زُخۡرُفًا﴾ ’’سونا‘‘ یعنی مختلف انواع کی خوبصورتی کے ذریعے سے ان کی دنیا کو آراستہ کر دیتا اور انھیں وہ سب کچھ عطا کر دیتا جو وہ چاہتے۔ مگر بندوں پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت نے ایسا کرنے سے روک دیا کہ کہیں وہ دنیا کی محبت کے باعث کفر اور کثرت معاصی میں ایک دوسرے پر سبقت نہ کرنے لگیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے مصالح کی خاطر، ان کو عام طور پر یا خاص طور پر، بعض دنیاوی امور سے محروم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی، مذکورہ بالا تمام چیزیں، دنیاوی زندگی کی متاع ہیں جو تکدر کی حامل اور فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کیونکہ آخرت کی نعمتیں ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہو گی جسے نفس چاہتے ہیں، آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں گھروں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے!