Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yaseen
Sura ta 36

Yaseen

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 69–70

وَمَا عَلَّمْنَـٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ 69 لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ 70

اور نہیں سکھایا ہم نے اس (رسول) کو شعر کہنا اور نہ(یہ) لائق ہی تھا اس کے، نہیں ہے وہ (کلام الٰہی) مگر ایک نصیحت اور قرآن واضح(69) تاکہ ڈرائے وہ اس کو جو ہے زندہ اور ثابت ہو جائے بات (اللہ کی) اوپر کافروں کے (70)

[69] مشرکین نبی مصطفی ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ شاعری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾ یعنی آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں۔ یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے۔ آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعراء گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعراء کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کر دیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں ، چنانچہ اس شبہ کو بھی ختم کر دیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرمایا کہ اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہے:﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾یعنی یہ چیز جو محمد رسول ﷺ لے کر آئے ہیں ’’ذکر‘‘ ہے جس سے عقل مند لوگ تمام دینی مطالب میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ تمام دینی مطالب پر کامل ترین طریقے سے مشتمل ہے اور وہ عقلوں کو اس چیز کی یاددہانی کرواتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کرنے کے حکم اور برے کاموں سے ممانعت کے طور پر انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا ہے۔﴿وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور واضح قرآن ہے‘‘ یعنی جن امور کی تبیین مطلوب ہے ان سب کو بیان کرتا ہے۔ اس لیے معمول کو حذف کر دیا تاکہ وہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ وہ پورے حق کو اور باطل کے بطلان کو اجمالی اور تفصیلی دلائل کے ذریعے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول ﷺ پر اسی طرح نازل فرمایا۔

[70]﴿لِّيُنۡذِرَ مَنۡ كَانَ حَيًّا ﴾ ’’تاکہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔‘‘ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لیے بارش کی حیثیت ہوتی ہے۔ ﴿وَّيَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔‘‘ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہو گئی اور ان کی حجت منقطع ہو گئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ باقی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔