Aal-i-Imraan
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَـٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُو۟لَـٰٓئِكَ لَا خَلَـٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ 77
بے شک وہ لوگ جو خریدتے (لیتے) ہیں اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض قیمت تھوڑی سی، یہی وہ لوگ ہیں کہ نہیں ہے کوئی حصہ ان کے لیے آخرت میں، اور نہ کلام کرے گا ان سے اللہ اور نہ دیکھے گا ان کی طرف (نظر رحمت سے) دن قیامت کے،اور نہ پاک کرے گا ان کو،اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(77)
[77] لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں جاہلوں کی حق تلفی کرنے سے گناہ نہیں ہوتا وہ اللہ کے اس قول میں داخل ہوتے ہیں: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اللہ کی یا بندوں کی حق تلفی کرکے اس کے عوض دنیا کی کوئی چیز لیتا ہے۔ اسی طرح جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ناجائز طورپر لے لیتا ہے، وہ بھی اس آیت میں شامل ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ارشاد ہے:﴿ لَا خَلَاقَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ یعنی وہاں انھیں کوئی بھلائی اور خیر حاصل نہیں ہوگی۔ ﴿وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ ان سے بات نہیں کرے گا‘‘ یعنی قیامت کے دن ان سے ناراض ہوگا اس لیے ان سے کلام نہیں کرے گا۔ کیونکہ انھوں نے خواہش نفس کو رب کی رضا سے مقدم سمجھا ہے۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ انھیں پاک کرے گا‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں گناہوں سے پاک نہیں کرے گا، ان کے عیب زائل نہیں کرے گا۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ جس سے دلوں کو بھی تکلیف ہوگی اور بدنوں کو بھی۔ وہ ہے ناراضی کا عذاب دیدار الٰہی سے محرومی کا عذاب، اور جہنم کا عذاب۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ آمین۔