Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ankaboot
Sura ta 29

Al-Ankaboot

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 8

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَـٰهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَآ ۚ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 8

اور وصیت کی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر نے کی اور اگر وہ کوشش کریں تیرے ساتھ کہ شریک ٹھہرائے تو میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں تجھے اس کا کوئی علم تو نہ اطاعت کر تو ان دونوں کی، میری طرف واپسی ہے تمھاری، پس میں خبر دوں گا تمھیں اس کی جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (8)

[8] یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا اور اس کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے یعنی وہ اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اپنے اس رویے کی حفاظت کرے، نیز وہ اپنے قول و فعل میں والدین کی نافرمانی کرے نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے۔ ﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ لِتُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور اگر وہ (والدین) دونوں تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جبکہ حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں ۔‘‘ اور کسی کے پاس شرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں شرک کے معاملے کی اہمیت کی بنا پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ ﴿ فَلَا تُطِعۡهُمَا١ؕ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میری ہی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو بتاؤں گا۔‘‘ پس میں تمھارے اعمال کی جزا دوں گا۔ اس لیے تم اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان کی اطاعت کو ہر شخص کی اطاعت پر مقدم رکھو، سوائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔