An-Naml
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَىْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ 91 وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ 92 وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ فَتَعْرِفُونَهَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ 93
یقینا حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کروں میں رب کی اس شہر(مکہ) کے وہ جس نے حرمت دی اس کو اور اسی کے لیے ہے ہر چیزاورحکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں مسلمانوں میں سے (91) اوریہ کہ تلاوت کروں میں قرآن کی، پس جس نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پائے گا اپنی ہی ذات کے لیےاور جو شخص گمراہ ہوا تو آپ کہہ دیجیے! یقینا میں تو ہوں ڈرانے والوں میں سے (92) اور کہہ دیجیے! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ دکھائے گا تمھیں اپنی نشانیاں سو پہچان لو گے تم ان کو اور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو (93)
[91] اے محمد (ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰؔذِهِ الۡبَلۡدَةِ ﴾ ’’مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔‘‘ یعنی مکہ مکرمہ ﴿ الَّذِيۡ حَرَّمَهَا ﴾ ’’جس نے اس کو محترم بنایا۔‘‘ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ ﴿ وَلَهٗ كُلُّ شَيۡءٍ﴾ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے ﴿ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یہاں مصنف نے سبقت قلم سے ﴿ وَّاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَ كُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
[92]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے ﴿ اَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’کہ میں تمھارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں ‘‘ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہ نمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معانی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کر دی ہے۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
[93]﴿ وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ یعنی دنیا وآخرت میں ، تمام خلائق، خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی طرف سے ہر قسم کی حمد وثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ کیونکہ ان کی طرف سے اپنے رب کے لیے ہونے والی حمد و ثنا دوسرے لوگوں کی طرف سے ہونے والی حمد و ثنا کی بنسبت زیادہ عظمت کے لائق ہے کیونکہ ان کے درجات بلند، ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب کامل نیز ان پر اس کے احسانات زیادہ ہیں ۔ ﴿ سَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ فَتَعۡرِفُوۡنَهَا﴾ ’’وہ عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جنھیں تم پہچان لو گے۔‘‘ ان آیات الٰہی کی تمھیں ایسی معرفت حاصل ہو گی جو حق اور باطل کے بارے میں راہنمائی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ضرور تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کے ذریعے سے تم اندھیروں میں اپنی راہوں کو روشن کرو گے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42)’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا رب تمھارے عملوں سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ بلکہ وہ تمھارے اعمال و احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے ان اعمال کی جزا کی مقدار کا بھی علم ہے وہ تمھارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا کہ تم اس فیصلے پر اس کی حمدوثنا بیان کرو گے اور یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے تمھارے لیے اس کے خلاف حجت نہ ہو گا۔