Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naml
Sura ta 27

An-Naml

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 83–85

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ 83 حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَـٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 84 وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا۟ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ 85

اور جس دن اکٹھا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں میں سے جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پس وہ روکے جائیں گے (83) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے (محشر میں ) تو کہے گا (اللہ)، کیا جھٹلایا تھا تم نے میری آیتوں کو جبکہ نہیں احاطہ کیا تھا تم نے ان کا علم سے یا کیا تھے تم عمل کرتے رہے؟ (84) اور واقع ہو جائے گا قول (عذاب) ان پر بوجہ اس کے جو ظلم کیا انھوں نے پس وہ نہیں بول سکیں گے (85)

[83] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ مِّمَّنۡ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ساتھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔‘‘ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجروتوبیخ اور ملامت کی جائے گی۔

[84]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡ ﴾ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجروتوبیخ کرتے اور ڈانٹتے ہوئے پوچھے گا ﴿ اَ كَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِيۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا ﴾ ’’کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمھارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔‘‘ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہو جاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کر دی جبکہ تمھیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ﴿ اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لیے یا ان کے رسول(ﷺ) کی سنت کے خلاف پائے گا۔

[85]﴿ وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ بول نہیں سکیں گے۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔