Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naml
Sura ta 27

An-Naml

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 79–81

فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِينِ 79 إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ 80 وَمَآ أَنتَ بِهَـٰدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ 81

پس آپ توکل کریں اللہ پر، بلاشبہ آپ ہیں اوپر حق صریح کے (79) یقینا آپ نہیں سنا سکتے مردوں کواور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی)پکار جب وہ ، پھر جائیں پیٹھ پھیر کر (80) اور نہیں آپ راہ پر لانے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے ، نہیں سنا سکتے آپ مگر اسی شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ ہماری آیتوں کے، پس وہی ہیں فرماں بردار(81)

[79] یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجیے! ﴿ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾ ’’بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لیے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس میں کوئی اشتباہ ہے۔

[80] جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر ﴿ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’اس وقت جبکہ وہ منہ پھیر کر جا رہے ہوں ‘‘ تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ۔

[81]﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِي الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾(القصص:28؍56) ’’آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ تو ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباع کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ١ؔؕ وَالۡمَوۡتٰى يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ﴾(الانعام:6؍36) ’’حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘