Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naml
Sura ta 27

An-Naml

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 62

أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ ٱلْأَرْضِ ۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ 62

(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ(اللہ) جو قبول کرتا ہے (دعا) لاچارکی جب وہ پکارتا ہے اسے اور وہ دور کر دیتا ہے برائی کو اور وہ بناتا ہے تمھیں جانشین زمین میں ؟ کیا ہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے؟ بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو تم (62)

[62] یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی ہے جو مضطرب و مجبور کی دعاؤں کا جواب دیتی ہو کہ جسے کرب و غم نے بے قرار کر رکھا ہو، جس کے لیے مطلوب کا حصول مشکل ہو اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہے اس سے گلو خلاصی پر مجبور ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا برائی، مصیبت، شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو کون دور کرتا ہے؟ کون ہے جو تمھیں زمین میں خلیفہ بناتا ہے، زمین میں تمھیں تمکن عطا کرتا ہے، تمھیں رزق سے نوازتا ہے اور تمھیں اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کرتاہے؟ اور تم گزرے ہوئے لوگوں کے خلیفہ بنتے ہو جس طرح عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں موت سے ہمکنار کرے گا اور تمھارے بعد کچھ اور لوگوں کو لے آئے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو؟کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے تمام افعال صادر ہوتے ہوں حتیٰ کہ، اے مشرکو! تمھیں خود بھی اس کا اقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تھی تو دین کو خالص کر کے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے کیونکہ انھیں علم تھا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس تکلیف کو دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ یعنی تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو اور بہت کم تدبر کرتے ہو حالانکہ یہ معاملات ایسے ہیں کہ اگر تم ان سے نصیحت پکڑو تو تمھیں نصیحت آ جائے اورتم ہدایت کی طرف لوٹ آؤ۔ مگر غفلت اور اعراض تم پر مسلط ہے بنابریں تم جہالت سے باز آتے ہو نہ راہ راست پر چلتے ہو۔