Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hajj
Sura ta 22

Al-Hajj

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 60

ذَٰلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيْهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ 60

(بات) یہی ہےاور جو شخص بدلہ مثل اس کے جو زیادتی کی گئی اس کے ساتھ، پھر ظلم کیا جائے اس پر تو البتہ ضرور مدد کرے گا اس کی اللہ بلاشبہ اللہ البتہ نہایت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے (60)

[60] جس شخص کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کیا گیا ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس ظالم کامقابلہ ویسی ہی زیادتی کے ساتھ کرے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس پر کوئی مواخذہ اور کوئی ملامت نہیں ۔ پس اگر اس کے بعد بھی وہ اس پر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس ظالم کی مدد کرے گا کیونکہ وہ اب مظلوم ہے، اس بنا پر اس کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنانا جائز نہیں کیوں کہ اس نے اپنا حق وصول کرلیا ہے پس جب دوسرے سے اس کی برائی کا بدلہ لینے والا شخص اپنا بدلہ لینے کے بعد زیادتی کرے تو کے بعد اس پر پھر ظلم کیا جائے، اللہ تعالیٰ اس دوسرے کی (جو اب مظلوم ہے)مدد فرماتا ہے تو جو مظلوم سرے سے بدلہ ہی نہ لے تو اس کے لیے تو اللہ کی مدد بہت زیادہ قریب ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ گناہ گاروں کو معاف کر دیتا ہے۔ ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، وہ ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان گناہوں کو دور کر کے ان کے آثار بھی مٹا دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی، دائمی اور وصف لازم ہے اور ہر وقت اپنے بندوں کے ساتھ اس کا معاملہ عفو اور مغفرت کا معاملہ ہوتا ہے، اس لیے اے وہ مظلوم لوگو! جن کے خلاف جرم کیا گیا ہے، تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم معاف کر دو، درگزر سے کام لو اور بخش دو تاکہ اللہ تعالیٰ بھی تمھارے ساتھ وہی معاملہ کرے جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ہاں واجب ٹھہرا۔‘‘