Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
Sura ta 2

Al-Baqara

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 270–271

وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ ۗ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ 270 إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ 271

اگر ظاہر کرو تم خیرات، تو اچھی بات ہے یہ، اور اگر چھپاؤ تم اس کو اور دو وہ فقیروں کو تو وہ بہت ہی بہتر ہے تمھارے لیے،اور دور کر دے گا (اللہ) تم سے تمھارے گناہ اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(271) اور جو خرچ کرو تم کسی قسم کا خرچ یا نذر مانو تم کوئی بھی نذر، تو بے شک اللہ جانتا ہے اسے،اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(270)

[271,270] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیادہ، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طورپرعظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لیے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ﴾ ’’اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔‘‘یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ﴿ فَنِعِمَّا هِيَ ﴾ ’’تو وہ بھی اچھا ہے۔‘‘ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طورپر صدقہ دینا، ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جارہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طورپر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دارومدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو، اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کرکے دینا افضل ہوگا۔ ﴿ وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اسے مسکینوں کو دے دو۔‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے۔ اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لیے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور ﴿ وَيُكَـفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ ﴾ میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی، اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔