Maryam
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوْمًا لُّدًّا 97 وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًۢا 98
پس یقینا آسان کر دیا ہے ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں تاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ پرہیز گاروں کواور ڈرائیں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو (97) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے، پہلے ان سے قومیں ، کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو (آنکھ یا ہاتھ سے)؟ یا آپ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی؟ (98)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ﴿ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا﴾ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں ۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہو گی اور ان کے سامنے صراط مستقیم واضح ہو جائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہو گا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو گا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔
[98] پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا ﴾ یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں ۔