Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Kahf
Sura ta 18

Al-Kahf

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 34–36

وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَـٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا 34 وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِۦٓ أَبَدًا 35 وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّى لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا 36

پس کہا اس نے اپنے ساتھی سے جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، میں زیادہ ہوں تجھ سے مال میں اور زیادہ باعزت ہوں تجھ سے باعتبار جتھے کے (34) اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں جبکہ وہ ظلم کرنے والا تھا اپنے آپ پر، اس نے کہا، نہیں گمان کرتا میں یہ کہ تباہ ہو گا یہ، یہ (باغ) کبھی بھی (35) اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر (بالفرض) لوٹایا گیا میں اپنے رب کی طرف تو ضرور پاؤں گا میں بہتر ان باغوں سے بھی، لوٹ کر جانے کی جگہ (36)

[34]﴿وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ﴾ اور اس شخص کا باغ بہت پھل لایا تھا جیسا کہ لفظ (ثمر) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس کے باغوں کا پھل پوری طرح پک گیا تھا ان کے درخت پھل کے بوجھ سے جھک رہے تھے۔ ان پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پس یہ کھیتی باڑی کے پہلو سے دنیا کی زیب و زینت کی انتہا ہے، اس وجہ سے وہ شخص دھوکے میں پڑ گیا، تکبر کرنے اور اترانے لگا اور اپنی آخرت کو فراموش کر بیٹھا۔ ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے: ﴿اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا﴾ ’’میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ‘‘ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار، یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوؤں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

[36,35] پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر کے اظہار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر حکم لگایا اور جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے گمان کو الفاظ کا پیرایہ دیا: ﴿قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰؔذِهٖۤ اَبَدًا﴾ ’’اس نے کہا، میں نہیں خیال کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو۔‘‘ یعنی یہ باغ کبھی ختم اور مضمحل نہ ہو گا۔ وہ اس دنیا پر مطمئن ہو کر اسی پر راضی ہو گیا اور اس نے آخرت کا انکار کر دیا، کہنے لگا:﴿ وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّلَىِٕنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰى رَبِّيۡ﴾ ’’اور نہیں خیال کرتا میں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا‘‘ یعنی فرض کیا قیامت قائم ہوتی ہے ﴿ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّؔنۡهَا مُنۡقَلَبًا ﴾ ’’تو پاؤں گا اس سے بہتر وہاں پہنچ کر‘‘ یعنی اللہ مجھے ان باغوں سے بہتر ٹھکانا عطا کرے گا، اس کی یہ بات دو امور سے خالی نہیں :(۱) یا تو وہ حقیقت حال کا علم رکھتا ہے تب اس کا یہ کلام ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر ہے یہ اس کے کفر میں اضافے کا باعث ہے۔ (۲) یا وہ حقیقت میں یہی سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا تب وہ دنیا کا جاہل ترین شخص اور عقل سے بے بہرہ ہے۔ دنیا کی عطا اور آخرت کی عطا میں کون سا تلازم ہے کہ کوئی جاہل شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ سمجھے کہ جسے اس دنیا میں عطا کر دیا گیا ہے اسے آخرت میں بھی عطا کیا جائے گا بلکہ غالب طور پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹا دیتا اور اپنے دشمنوں کو دنیا عطا کرتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو حقیقت کا علم تھا مگر اس نے بات محض ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر کہی تھی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’اور وہ اپنے باغ میں گیا، جبکہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا‘‘ پس باغ میں داخل ہوتے وقت اس سے صادر ہونے والے کلمات سے اس کے وصف ظلم کا اثبات، اس کے تمرد اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔