Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Asr
Sura ta 103

Al-Asr

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 1–3

وَٱلْعَصْرِ 1 إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَفِى خُسْرٍ 2 إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ 3

قسم ہے زمانے کی(1) بلاشبہ انسان خسارے میں ہے(2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور ایک دوسرے کو وصیت کی حق کی اور ایک دوسرے کو وصیت کی صبر (کرنے ) کی(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھائی ہے، جو گردش شب و روز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر نفع اٹھانے والے کی ضد ہے۔ خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں۔ کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھایا، جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے، کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے:(۱)ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ایمان علم کے بغیر نہیں ہوتا، اس لیے علم ایمان ہی کی فرع ہے ، علم کے بغیر اس ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔(۲)عمل صالح: یہ تمام ظاہری اور باطنی بھلائی کے افعال کو شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ سے متعلق ہیں۔(۳)ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا، حق جو ایمان اور عمل صالح کا نام ہے، یعنی اہل ایمان ایک دوسرے کو ان امور کی وصیت کرتے ہیں، ان پر ایک دوسرے کو آمادہ کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہیں۔(۴) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی، اس کی نافرمانی سے باز رہنے کی اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرنا۔پہلے دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن اپنے آپ کی تکمیل کرتا ہے اور آخری دو امور کے ذریعے سے وہ دوسروں کی تکمیل کرتا ہے۔ ان چاروں امور کی تکمیل سے بندہ خسارے سے محفوظ رہتا ہے اور بہت بڑا نفع حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔