پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت ختم کرنے کا بیان
Wannan fassara ta mai fassararta ce, ba ta Sabīl ba. Ana nuna ta kamar yadda tushenta ya bayar, a matsayin rubutu na kanta a ƙarƙashin kowane littafi da kanun labaran mai fassarar kanta: ba ta tsaya layi-layi kusa da Larabci ba, kuma tana ɗauke da kurakuran kwafin da aka karanta ta. Sabīl ba ta duba ta da Larabci ba, kuma babu malamin da ya duba ta.
Fassarar Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںAn karanta daga dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)an ɗauka 2026-10-22
Abin da tushen ya faɗa game da ita: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
(اس میں ایک مقدمہ اور دو باب ہیں )
مقدمہ:
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جو عظمت ورِفْعَت کے لحاظ سے اپنی بزرگی میں یکتاہےاوروہی اس بات کامُسْتَحِقْ ہے کہ اس کی حمد وپاکی بیان کی جائے ۔ وہ حکم لگانے اور فیصلہ کرنےمیں عدل و انصاف کو قائم کرنے والا اور انعامات و عطیات میں فضل وکرم فرمانے والا ہے ۔ وہی ہر مقام پراپنے بندے کی حفاظت کا کفیل ہے ۔ وہی اپنے بندےکو اس کی ضرورتوں سے زیادہ عطا کرتا ہے بلکہ اس کی آرزوؤں اور خواہشوں تک کو پورا کرکے اسےنوازتا ہے ۔ وہی ہے جو اپنے بندے کی رہنمائی فرماتا اور اسے ہدایت دیتا ہے ۔ وہی ہے جو اپنے بندے کو موت دیتا ہے پھر اسے زندہ کرےگا ۔ جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو وہ اسے شِفا دیتا ہے اور جب بندہ کمزور ہوجاتا ہے تو وہی قوت عطا فرماتا ہے ۔ وہی ہے جو اپنے بندے کو عبادت کی توفیق دے کر اسے اپنا پسندیدہ بنا لیتا ہے ۔ وہی ہے جو اسے کھلاتا، پلاتا، ہلاکت سے محفوط رکھتا، دشمنوں سے بچاتا اور غذا اور مشروب کے ذریعے ہلاک کردینے والی چیزوں سے اس کی حفاظت فرماتا ہے ۔ وہی ہے جو اپنے بندے کو قلیل غذا پر قناعت کرنے کی قدرت عطا فرماکر بھی اس کی طاقت وقوت کو برقرار رکھتا ہے حتّٰی کہ معمولی غذاپر قناعت کے سبب اس کے دشمن شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اور نفس کا زور ٹوٹ جاتا اور اس کا شر دور ہوجاتا ہے پھر بندہ دل جمعی کے ساتھ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی عبا دت کرتا ہے اوردل میں اس کا خوف رکھتا ہے ۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو لذیذ اور من پسند چیزوں کی اَنواع واَقسام سے مالامال فرماتا ہے اور اس پر ان چیزوں کی کثرت فرمادیتا ہے جو اسباب ِلذات میں جوش وحرکت پیدا کرتی اور انہیں پختہ و مضبوط کرتی ہیں اور ان تمام چیزوں کے ذریعے بندے کا امتحان لیتا اور اسے آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کیسے وہ اپنی خواہشات پرقلیل غذاکو اختیارکرتا ہے؟ اس کےاحکامات کی کیسے حفاظت کرتاہے؟ ممنوعات کے ارتکاب سے کیسے رکتا ہے؟ اور اس کی طاعت و عبادت پر کیسے ہمیشگی اختیار کرتا ہے؟نیز گناہوں سے کیسے باز آتا ہے؟
اور اس کے معزّزبندے اور عالی مَرتَبَت رسول حضرت محمدمصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ايسا درود ہو جو اُنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمزید قریب کرےاورآپ کے مقام و مرتبے کو بُلند کرے نیز آپ کی نیک اولاد اور قریبی رشتہ داروں اورنیک وپرہیزگارصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اورآپ کی سنّتوں پر چلنے والوں پربھی درودہو ۔
ابْنِ آدم کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سب سے بڑی چیز پیٹ کی خواہش ہے اسی کی وجہ سے حضرت آدم و حوا عَلَیْہِمَا السَّلَام کوجنت سے اس دنیا کی طرف بھیجا گیاجو ذِلَّت و محتا جی کا گھرہے کیو نکہ انہیں درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا لیکن وہ وسوسے کا شکار ہو گئے اوران پرپیٹ کی خواہش غالِب آئی حَتّٰی کہ ان دونوں نے اس سے کھا لیا اوراُن پراُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں ۔ (1 )
پیٹ حقیقت میں خواہشات وآفات کامَنْبَعومرکزہے کیونکہ پیٹ کی خواہش پوری ہونے کے بعد عورتوں کی خواہش ہوتی ہے اور شرم گاہ میں شدیدہیجان وجوش پیدا ہوجاتا ہےپھر کھانے اور نکاح کی خواہش کے بعد جاہ ومنصب ا ورمال ودولت جو کہ بیویوں اور غذاؤں میں اضافے ووسعت کا ذریعہ ہیں ان کی طرف میلان و رغبت میں شدت پیدا ہو جاتی ہے ۔ مال و جاہ میں کثرت کی خواہش سے مختلف برائیاں پیدا ہوتی ہیں
[1] حضرت آدم اور حضرت حواء عَلَیْہِمَاالسَّلَام نہایت ہی آرام اور چین کے ساتھ جنت میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ جنت کا جو پھل بھی چاہو بے روک ٹوک سیر ہو کر تم دونوں کھا سکتے ہو۔ مگر صرف ایک درخت کا پھل کھانے کی ممانعت تھی کہ اس کے قریب مت جانا۔ وہ درخت گیہوں تھا یا انگور وغیرہ تھا۔ چنانچہ دونوں اس درخت سے مدت دراز تک بچتے رہے۔ لیکن ان دونوں کا دشمن ابلیس برابر تاک میں لگا رہا۔ آخر اس نے ایک دن اپنا وسوسہ ڈال ہی دیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جس درخت سے تم دونوں کو منع کردیا ہے وہ” شَجَرَۃُ الْخُلْد “ہے یعنی جو اس درخت کا پھل کھائے گا وہ کبھی جنّت سے نہیں نکالا جائے گا۔ پہلے حضرت حوا عَلَیْہَا السَّلَام اس شیطانی وسوسہ کا شکار ہوگئیں اور انہوں نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو بھی اس پر راضی کرلیا اور وہ ناگہاں غیر ارادی طور پر اس درخت کا پھل کھاگئے۔ آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھ لیا کہ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ (پ۱ ، البقرة : ۳۵)کی نہی تنزیہی ہے اور واقعی ہرگز ہرگز نہی تحریمی نہیں تھی ورنہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نبی ہوتے ہوئے ہرگز ہرگز اس درخت کا پھل نہ کھاتے کیونکہ نبی تو ہر گناہ سے معصوم ہوتا ہے بہرحال حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے اس سلسلے میں اجتہادی خطا سرزد ہوگئی اور اجتہادی خطا معصیت نہیں ہوتی۔لیکن حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام چونکہ دربارِ الٰہی میں بہت مقرّب اور بڑے بڑے درجات پر فائز تھے اس لئے اس اجتہادی خطا پر بھی موردِ عتاب ہو گئے۔ فوراً ہی بِہِشتی لباس دونوں کے بدن سے گر پڑے اور یہ دونوں جنّت کے پتوں سے اپنا ستر چھپانے لگے ، اور خداوند قُدوس کا حکم ہو گیاکہ تم دونوں جنت سے زمین پر اتر پڑو۔ (عجائب القرآن مع غرائب القرآن ، ص۲۷۱ ، ۲۷۲)
جیسے حسد اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنا،مال وجاہ کے سبب ریاکاری کرنا،باہم فخر کرنا،ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اور تکبُّر کرنا اور یہ چیزیں بغض وعداوت اور حسد و کینہ کے اِرتِکاب کی طرف بلاتی ہیں اور آدمی کو بےحیائی، برائی اور سرکشی کی حد تک لے جاتی ہیں ۔ یہ سب کچھ معدہ کے معاملے میں لاپروائی و غفلت برتنے اور پیٹ بھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والےتکبرسے بے توجُّہی کا نتیجہ ہے ۔ اگر بندہ بھوک کے ذریعے اپنے نفس کو ذلیل کرے اور شیطان کے راستوں کو تنگ کردے تو ضرور اس کا نفس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری کے لئے آمادہ ہو جائے اور غرور و تکبر اور سرکشی کے راستے پر نہ چلے، دنیا میں مُنْہَمِک نہ ہو اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح نہ دے اور نہ ہی دنیا کی حرص رکھتے ہوئے اس پر مکمل طور پر ٹوٹ پڑے ۔
جب پیٹ کی خواہش کی آفت اس حد تک بڑی اور سنگین ہے تو اس سےبچنے کے لئےاس کےنقصانات وآفات کی وضاحت وتفصیل ضروری ہے اور اس کے لئے مجاہدہ کے طریقے کی وضاحت اور ترغیب کے لئےاس کی فضیلت پر آگاہی بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح شرمگاہ کی شہوت کی وضاحت وتفصیل بھی ضروری ہے کیونکہ یہ پیٹ کی خواہش کے تابع ہے ۔
ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے مختلف فصلوں میں ان چیزوں کی وضاحت کریں گے جن میں بھوک کی فضیلت، اس کے فوائد، کم اورتاخیر سے کھانے کے ذریعے پیٹ کی خواہش کو توڑنے میں ریاضت کے طریقے ذکر کئے جائیں گے پھر لوگوں کے احوال مختلف ہونے کی وجہ سے بھوک اور اس کی فضیلت کے حکم میں اختلاف کا بیان ہوگا پھر ترکِ خواہش کے سلسلے میں ریاضت کا بیان، پھر شرمگاہ کی شہوت کے متعلق کلام ہوگا اور پھر ان چیزوں کا بیان ہوگا جو نکاح کرنے اور نہ کرنے کے معاملے میں راہِ آخرت کے مسافر پر لازم ہیں اور پھر ان حضرات کی فضیلت کا بیان ہو گا جنہوں نے پیٹ ، شرم گاہ اور آنکھ کی خواہش کی مخالفت کی ۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )
( تُوْبُوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ )
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )
باب نمبر1: پیٹ کی شہوت کا بیان
(اس میں پانچ فصلیں ہیں )
پہلی فصل: بھوک کی فضیلت اور پیٹ بھرنے کی مَذَمَّت
بھوک کی فضیلت اور شکم سیری کی مذمت میں 20 فرامین مصطفٰے:
(1)…بھوک اور پیاس کے ذریعے اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کرو کیونکہ اس کا اجر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے اجر جیسا ہے اور کوئی عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بھوک اور پیاس سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں ۔
(2)… جو شخص اپناپیٹ بھر تاہے وہ آسمانوں کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔
(3)…بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !لوگوں میں کون افضل ہے؟“ ارشاد فرمایا:”جس کا کھانااور ہنسنا کم ہو اور اتنے لباس پر راضی ہو جس سے اپنا سِتْر ڈھانپ سکے ۔ “
(4)… سَیِّدُالْاَعْمَالِ الْجُوْعُ وَذَلُّ النَّفْسِ لِبَاسُ الصُّوْف یعنی اعمال کی سرداربھوک ہے اور نفس کی ذلّت اُون کے لباس میں ہے ۔
(5)…(اونی)لباس پہنو اور پیٹ بھر کر کھاؤ نہ پیو بےشک یہ نَبوَّت کا ایک حصہ ہے ۔ (1 )
(6)… اَلْفِکْرُنِصْفُ الْعِبَادَةِ وَقِلَّةُالطَّعَامِ ھِیَ الْعِبَادَةُ یعنی غور و فکر نصف عبادت ہے اور کم کھانامکمل عبادت ہے ۔
(7)…بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مقام و مرتبہ کے اعتبار سے تم میں افضل وہ شخص ہوگا جو زیا دہ بھوکا رہنے والا اور زیادہ غور وفکر کرنے والا ہوگا اور زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہوگا جو زیادہ کھانے، زیادہ پینے اور زیاده سونے والا ہوگا ۔
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بھوک اختیاری تھی:
ایک روایت میں ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِختیاری طور پر بھوک برداشت فرمایاکرتےتھے ۔ (2 )
(8)…بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرشتوں کے سامنےدنیا میں کم کھانے اور کم پینے والے شخص پر فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:”میرے بندے کی طرف دیکھو!میں نے کھانے پینے کی چیزوں کے ذریعے اسے
[1] فردوس الاخبار ، ۱ / ۶۸ ، حديث : ۳۳۹ ، ۳۳۸ ملتقطًا
[2] شعب الايمان ، باب فی المطاعم والمشارب .الخ ، ۵ / ۲۶ ، حديث : ۵۶۴۰
آزمایا تو اس نے صبر کیااور انہیں چھوڑدیا ۔ اے میرے فرشتو!گواہ ہوجاؤ!اس نے جو لقمہ بھی چھوڑا میں اس کے بدلے اسے جنت میں دَرَجات عطا کروں گا ۔ “
(9)…زیادہ کھا نے اور پینے کے ذریعے اپنے دل کومردہ نہ کرو کیو نکہ دل کھیتی کی طرح ہے کہ جب اسے زیادہ پانی ملے تو وہ خراب ہو جاتی ہے ۔
(10)…آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُراکوئی برتن نہیں بھرتا، آدمی کواپنی پیٹھ سیدھی رکھنے کے لئے چند لقمے کافی ہیں اگراس سےزیادہ کھانا ضروری ہو توپیٹ کاتہا ئی کھانے کے لئے، تہائی پینے کے لئے اور تہائی سانس کے لئے رکھو ۔ (1 )
روزِقیامت ربّ تعالٰی کے زیادہ قریب:
(11)…بے شک بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں طویل عرصہ تک بھوکے، پیاسے اور غمگین رہے ہوں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو(عام لوگوں کی نظروں سے) پوشیدہ اورمُتَّقِی ہیں کہ اگر موجود ہوں توپہچانے نہ جائیں، غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے، زمین کے ٹکڑے انہیں پہچانتے ہیں اور آسمان کے فرشتے ان کو گھیرے ہوئے ہیں ۔ لوگ دنیاسے خوش ہوتے ہیں اور یہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری سے خوش ہوتے ہیں ۔ لوگ نرم وملائم بستر بچھاتے ہیں جبکہ یہ لوگ پیشانیاں اور گھٹنے بچھاتے ہیں(یعنی راتیں سجدوں میں گزارتے ہیں) ۔ لوگ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی سنّتوں اوران کے اخلاق سے روگردانی کرتے ہیں لیکن یہ ان کی حفاظت کرتے ہیں ۔ جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوجاتاہے توزمین روتی ہے اور جس شہر میں ان میں سے کوئی نہ ہو اس شہر پر جبَّار عَزَّ وَجَلَّ غضب فرماتا ہے ۔ یہ لوگ دنیا پر اس طرح نہیں ٹوٹ پڑتے جس طرح سڑے ہوئےمردار پر کُتّے ٹوٹ پڑتے ہیں بلکہ یہ لوگ تو کم کھاتے اور پرانا لباس پہنتے ہیں ۔ ان کے بال بکھرے ہوئے اورچہرےغبار آلودہوتے ہیں ۔ لوگ اِنہیں دیکھ کر بیمار گمان کرتےہیں حالانکہ یہ بیمار نہیں ہوتے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اِنہیں دماغی عارِضہ لاحِق ہواہے جس کی وجہ سےان کی عقلیں چلی گئی ہیں حالانکہ ان کی عقلیں گئی نہیں ہوتیں لیکن انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمعاملے میں غور وفکر کیاتو اس کے سبب ان کے اندر سے دنیا(کی محبت)چلی گئی ۔ دنیا والوں کے نزدیک یہ لوگ بے عقل
[1] سنن الترمذی ، کتاب الزهد ، باب ماجاء فی کراهية کثرة الاکل ، ۴ / ۱۶۸ ، حديث : ۲۳۸۷
شخص کی طرح چلتے ہیں حالانکہ ان کی عقلیں اس وقت بھی سلامت ہوں گی جب لوگوں کی عقلیں چلی جائیں گی ۔ ان کے لئے آخرت میں بلند مرتبہ ہوگا ۔ اے اسامہ!جب تم انہیں کسی شہر میں دیکھوتو جان لینا کہ یہ اس شہر والوں کے لئے امان ہیں ۔ جس قوم میں یہ ہوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر عذا ب نہیں فرماتا،زمین ان سے خوش اور ربّ عَزَّ وَجَلَّ ان سے راضی ہے، تم انہیں اپنا بھائی بنا لیناقریب ہے کہ تم ان کے وسیلے سے نجات پاجاؤ ۔ اگر تمہارے لئے ممکن ہو کہ موت کے وقت تمہارا پیٹ بھوکا اورجِگَر پیاسا ہو تو ایسا ہی کرناکیونکہ اس کے سبب تم بلند مقام و مرتبہ پالو گے، انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا ساتھ تمہیں نصیب ہو گا، فرشتے تمہاری روح کے آنے سے خوش ہوں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحمت فرمائے گا ۔ (1 )
(12)…اونی لبا س پہنو،پاجامہ ٹخنوں سے اوپر رکھواور پیٹ بھر کر نہ کھاؤ آسمانوں کی سلطنت میں پرواز کرنے لگو گے ۔ (2 )
حصول معرفت کا ایک طریقہ:
حضرت سیِّدُنا عیسیٰروحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:”اے حواریوکے گروہ! اپنے پیٹوں کو بھوکا پیاسارکھواورلباس بقدر ضرورت پہنوشاید کہ تمہا رے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھ لیں ۔ “(ایک روایت میں ہے تاکہ تمہا رے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل کرلیں ۔ ) (3 )
یہی بات پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےبھی مروی ہے جسے حضرت سیِّدُنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روایت کیا ہے ۔
Rubutu dagaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472an ɗauka 2026-10-21
Wannan shi ne rubutun Larabci na Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn na al-Ghazālī kamar yadda yake a tarin OpenITI, daga kwafin Shamela na bugun Dār al-Maʿrifa. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga ko rubutun hannu, kuma babu malamin da ya duba shi. Tarin ya ce a wasu shafuka wani ɓangare na rubutun ya ɓace kuma bayanan gefen mai gyara sun gauraye da rubutun; dukansu ana nuna su kamar yadda suke. An yi alama inda shafukan bugun suka ƙare. Fassarorin na masu fassararsu ne; kowace an karanta ta daga kwafin da aka ambata tare da ita kuma ana nuna ta a matsayin rubutu na kanta a ƙarƙashin kowane littafi da kanun labaranta: babu ɗaya da aka jera layi-layi tare da Larabci, Turancin Karim ya taƙaita littafin kamar yadda mai fassararsa ya ce, kuma kowace tana ɗauke da kurakuran kwafin da aka karanta ta. Sabīl ba ta fassara komai ba, ba ta duba kowace fassara da Larabci ba, kuma babu malamin da ya duba ko ɗaya.