اَمْربِالْمَعْرُوْف وَنَہی عَن الْمُنکَر(28 )کا بیان
Wannan fassara ta mai fassararta ce, ba ta Sabīl ba. Ana nuna ta kamar yadda tushenta ya bayar, a matsayin rubutu na kanta a ƙarƙashin kowane littafi da kanun labaran mai fassarar kanta: ba ta tsaya layi-layi kusa da Larabci ba, kuma tana ɗauke da kurakuran kwafin da aka karanta ta. Sabīl ba ta duba ta da Larabci ba, kuma babu malamin da ya duba ta.
Fassarar Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںAn karanta daga dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)an ɗauka 2026-10-22
Abin da tushen ya faɗa game da ita: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
(یہ چارابواب پر مشتمل ہے)
سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس کی حمد کے بغیر کتابیں شروع نہیں کی جاتیں اورجس کے کرم و بخشش کے وسیلے کے بغیر نعمتیں عطا نہیں کی جاتیں اور درود ہو تمام انبیا کے سردار حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول اور اس کے بندے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ آل اور پاک اصحاب پر بھی درود ہو۔
دین کامرکز ی نقطہ اَمْربِالْمَعْرُوف ونَہی عَنِِ الْمُنْکَر یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے اور یہی وہ اہم کام ہے جس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو مبعوث فرمایا ،اگر اس سے غفلت اور بے توجہی برتی جائے یوں کہ لوگ نہ اس کا علم حاصل کریں اور نہ اس پر عمل کریں تو نَبُوَّت کے مقاصد ہی فوت ہوجائیں، دیانت داری کا اثر ختم ہو جائے، کمزوری و سستی عام ہو جائے، گمراہی پھیل جائے، جہالت کا دور دورہ ہو جائے، فساد و خرابی سرایت کر جائے، اختلاف و انتشار بہت زیادہ ہو جائے، ممالک تباہ و برباد اور بندے ہلاک ہو جائیں اور یہ احساس ہی جاتا رہے کہ ہمارے قدم ہلاکت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پھرجس چیز کا ڈر تھا وہ ہو گئی” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) “(29 )۔چنانچہ،نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا علم اوراس پر عمل کا جذبہ ختم ہوچکابلکہ اس کی حقیقت اور نشان تک مٹ چکے ہیں، دلوں پر مخلوق کی مُداہَنَت کا غلبہ ہوچکا اور خالق عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ تعلق ختم ہوچکاہے اور لوگ شہوات و خواہشات کے پیچھے اس طرح چل پڑے ہیں جس طرح جانور چلتے ہیں اور زمین کے اوپر ایسے سچے مؤمن کا وجود نایاب ہو چکاہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکام کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتا۔
جو شخص اس کمزوری و سستی کی تلافی کرے اور اس رخنہ کو بند کرےاس طرح کہ اس پر عمل کرے یا پھراسے نافذ کر کے اِس فوت شدہ سنت کو زندہ کرے، اسےقائم کرے اور اس کے اِحْیا(زندہ کرنے)میں کوشش کرے وہ اس سنت کو جس کے مردہ ہونے پر ایک زمانہ گزر چکا ہےزندہ کرنے کی وجہ سے مخلوق میں ترجیح پائے گا اور وہ ایسی طاعت و قربت میں مشغول کہلائےگا کہ طاعت کے تمام درجات اس کی بلندی کے سامنےکم دکھائی دیں گے۔ہم چارابواب میں اس علم کی وضاحت کریں گے:
(۱)… اَمْربِالْمَعْرُوف ونَہی عَنِِ الْمُنْکَر کے وجوب اور اس کی فضیلت کا بیان ۔(۲)…اس کے ارکان اور شرائط کا بیان۔(۳)…اس کے راستے اور ان برائیوں کابیان جن سے عادۃً الفت ہو جاتی ہے۔(۴)…امرا و سلاطین کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنےکا بیان ۔
جنت میں لے جانے والے اعمال
حضرت سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص حلال کھائے، سنت پر عمل کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ایسے لوگ تو اس وقت بہت ہیں۔‘‘ارشاد فرمایا:’’عنقریب میرے بعد بھی ایسے لوگ ہوں گے۔‘‘( المستدرک للحاکم ،۵/ ۱۴۲، الحدیث :۷۱۵۵)
کتاب الدعاء للطبرانی ، باب ما کان النبی يدعوبه فی سائر نهاره ، الحديث : ۱۴۱۴، ص۴۱۸
سنن النسائی ، کتاب السهو ، باب البکاء فی الصلاۃ ، الحديث : ۱۲۱۱، ص۲۰۸، بتغيرقليل
صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب ضرب الدف فی النکاح والوليمة ، ۳ / ۴۲۶، الحديث : ۵۱۴۷
السنن الکبری للنسائی ، کتاب عشرة النسا ٓ ء ، باب اباحةالرجل لزوجته النظرالی اللعب ، ۵ / ۳۰۹، الحديث : ۸۹۵۷
سنن ابی داود ، کتاب الطلاق ، باب من احق بالولد ، ۲ / ۴۱۴، الحديث : ۲۲۷۸
السنن الکبری للبيهقی ، کتاب النفقات ، باب الخالةاحق بالحضانةمن العصبة ، ۹ / ۸، الحديث : ۱۵۷۷۰
[29][29]'> ترجمہ ٔ کنز الایمان : ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲، البقرة : ۱۵۶)
باب نمبر1: اَمْربِالْمَعْرُوف وَنَہی عَنِ الْمُنْکَر کاوجوب،اس کی فضیلت اور اسے ترک کرنے کی مذمت کا بیان
اَمْربِالْمَعْرُوف ونَہی عَنِ الْمُنکَر کے وجوب پراجماع امت اورعقل سلیم کے اشاروں کے ساتھ ساتھ آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نَبَوِیہ اور بزرگانِ دین کے ارشادات بھی دلالت کرتے ہیں۔
اَمْربِالْمَعْرُوف ونَہی عَنِ المُنکَرکےمتعلق13فرامین باری تعالیٰ:
(1)… وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) ( پ ۴، اٰل عمرٰن :۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
اس آیتِ مبارکہ سےدرج ذیل امور معلوم ہوئے:٭…نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا واجب ہے۔ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان” وَ لْتَكُنْ “امر کا صیغہ ہے اورعموماً امر سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔٭…فلاح و کامیابی کا دارومدار نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر ہے جیساکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاح کواِس کے ساتھ خاص کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) ( پ ۴، اٰل عمرٰن :۱۰۴، ترجمۂ کنز الایمان : یہی لوگ مُراد کو پہنچے)۔٭…نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا فرضِ کفایہ ہے نہ کہ فرضِ عین،لہٰذا جب امت میں سے ایک گروہ اس فریضہ کو انجام دے گا تو بقیہ سے ساقط ہو جائے گا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ ’’تم سب کے سب نیکی کا حکم دینے والے ہو جاؤ‘‘ بلکہ یہ ارشاد فرمایا ہے: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ ( پ ۴، اٰل عمرٰن :۱۰۴، ترجمۂ کنز الایمان :اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے)۔چنانچہ، جب اس فریضہ کو انجام دینے کے لئے کوئی ایک شخص یا کوئی گروہ اٹھ کھڑا ہو گا تو بقیہ سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔نیزفلاح کو ان لوگوں کے ساتھ خاص کیا
گیا ہے جو اس فریضہ کو انجام دینے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں،لہٰذا اگر تمام لوگ اس فریضہ سے کوتاہی کریں گے تو اس کا وبال سب پر پڑے گا با لخصوص ان لوگوں پر جو اس پر قادر تھے۔
(2)… لَیْسُوْا سَوَآءًؕ-مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآىٕمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ(۱۱۳) یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِؕ-( پ ۴، اٰل عمرٰن :۱۱۳،۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے بھلائی پر ہونے کی گواہی صرف اللہتعالٰی اور قیامت کے دن پر ایمان لانے کے ساتھ نہیں دی بلکہ اس کے ساتھ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا بھی ذکر کیاہے۔
(3)… وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ ( پ ۱۰، التوبة :۷۱)
ترجمۂ کنزالایمان :اورمسلمان مرداورمسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں۔
اس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مؤمنین کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں، لہٰذاجو شخص اس عمل کو ترک کرے گا وہ ان مؤمنین سے خارج ہو گا جن کا وصف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیت مبارکہ میں بیان فرمایا ہے۔
(4)… لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸)كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ- لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹)( پ ۶، المآئدة :۷۸،۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان :لعنت کئے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسٰی بن مریم کی زبان پر یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا جوبُری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے۔
اس آیت میں بَشِدَّت بنی اسرائیل کے کافروں کے مستحق لعنت ہونے کی صرف یہی وجہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انہوں نے برائی سے منع کرنا ترک کر دیا تھا۔
(5)… كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- ( پ ۴، اٰل عمرٰن :۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان : تم بہتر ہو اُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ آیتِ طَیِّبہ نیکی کا حکم دینے اوربرائی سے منع کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُمتِ محمدیہ کےتمام امتوں سے بہترین امت ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہےکہ وہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
(6)… فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىٕیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (۱۶۵) ( پ ۹، الاعراف :۱۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان : پھر جب وہ بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جوبرائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا۔
اس آیت میں یہ بات بیان فرمائی گئی کہ نجات ان لوگوں کوحاصل ہوئی جنہوں نے برائی سے منع کیا۔ نیز یہ آیت برائی سے منع کرنے کے واجب ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے۔
(7)… اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِؕ- ( پ ۱۷، الحج :۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ مبارکہ میں مؤمنین اور نیک لوگوں کی تعریف بیان فرماتے ہوئے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو نماز اور زکوٰۃ کے ساتھ ملایا ہے۔
(8)… وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ( پ ۶، المآئدة :۲)
Rubutu dagaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472an ɗauka 2026-10-21
Wannan shi ne rubutun Larabci na Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn na al-Ghazālī kamar yadda yake a tarin OpenITI, daga kwafin Shamela na bugun Dār al-Maʿrifa. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga ko rubutun hannu, kuma babu malamin da ya duba shi. Tarin ya ce a wasu shafuka wani ɓangare na rubutun ya ɓace kuma bayanan gefen mai gyara sun gauraye da rubutun; dukansu ana nuna su kamar yadda suke. An yi alama inda shafukan bugun suka ƙare. Fassarorin na masu fassararsu ne; kowace an karanta ta daga kwafin da aka ambata tare da ita kuma ana nuna ta a matsayin rubutu na kanta a ƙarƙashin kowane littafi da kanun labaranta: babu ɗaya da aka jera layi-layi tare da Larabci, Turancin Karim ya taƙaita littafin kamar yadda mai fassararsa ya ce, kuma kowace tana ɗauke da kurakuran kwafin da aka karanta ta. Sabīl ba ta fassara komai ba, ba ta duba kowace fassara da Larabci ba, kuma babu malamin da ya duba ko ɗaya.