Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tahrim
Sūrah 66

At-Tahrim

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verse 6

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَـٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ 6

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاؤ تم اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل (و عیال) کو اس آگ سے کہ ایندھن اس کا ہیں انسان اور پتھر، اس پر (مقرر) ہیں فرشتے نہایت سخت دل بڑے مضبوط، نہیں نافرمانی کرتے وہ اللہ کی جس کا حکم دے وہ انھیں اوروہ (وہی ) کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں وہ(6)

[6] یعنی اے وہ لوگو جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے! ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے ﴿ قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾ ’’اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے، اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا، اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں، جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف کے تحت ہوں، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ﴾ ’’جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔‘‘ جیسا کہ فرمایا:﴿ اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍98) ’’تم اور تمھارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرعبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں،تمھیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔‘‘ ﴿عَلَيۡهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ﴾ ’’جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔‘‘ ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت اور ان کا انتقام بہت برا ہو گا، جہنمی ان کی آوازیں سن کرگھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے، یہ فرشتے اپنی طاقت و قوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کے سر تسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا ذکر ہے۔