Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hajj
Sūrah 22

Al-Hajj

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 55–57

وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ 55 ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ 56 وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ 57

اور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، شک میں اس (قرآن) سے، یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس قیامت اچانک یا آجائے ان پر عذاب بانجھ (بے برکت) دن کا (55) بادشاہی اس دن اللہ ہی کی ہوگی وہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان، پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، (وہ ہوں گے) باغات میں نعمتوں کے (56) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا (57)

[55] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی حالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ کفار ہمیشہ شک و ریب میں مبتلا رہیں گے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں کفار اپنے عناد اور اعراض کے باعث شک کرتے رہیں گے اور وہ اسی حال میں ہمیشہ رہیں گے ﴿ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت کی گھڑی اچانک آجائے‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيۡمٍ ﴾ ’’یا ان کے پاس بانجھ دن کا عذاب آ جائے۔‘‘ یعنی ایسے دن کا عذاب آجائے، جس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جب قیامت کی گھڑی ان کے پاس آجائے گی یا وہ دن آجائے گا تو ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ جھوٹے تھے۔ وہ نادم ہوں گے جبکہ ان کی ندامت انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش انھوں نے رسول پر ایمان لا کر اس کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ اس آیت میں کفار کو اپنے شک و شبہات اور افترا پردازی پر قائم رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔

[57,56]﴿ اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’بادشاہی اس دن۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ لِّلّٰهِ﴾ ’’صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔‘‘ اور اس کے سوا کسی اور کا کوئی اقتدار و اختیار نہ ہوگا۔ ﴿ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جو کچھ رسول لے کر آئے، اس پر ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور نیک عمل كيے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت بہم پہنچائیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴾’’نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔‘‘ یعنی انھیں قلب و روح اور بدن کی ایسی نعمت حاصل ہوگی جسے کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے نہ عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور وہ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ اور حق و صواب کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہماری آیات کی تکذیب کی، ان سے روگردانی کی یا ان سے عناد رکھا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ان کے لیے،انتہائی شدید، المناک اور دلوں تک اتر جانے والا رسوا کن عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کی آیات کی اہانت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کواہانت آمیز عذاب میں مبتلا کیا۔