At-Tawba 9:45
التوبةإِنَّمَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَٱرْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ
یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وه اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں۔[1]
[1] یہ ان منافقین کا بیان ہے جنہوں نے جھو ٹے حیلے تراش کر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے جہاد میں نہ جانے کی اجازت طلب کر لی تھی۔ ان کی بابت کہا گیا ہے کہ یہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی عدم ایمان نے انہیں جہاد سے گریز پر مجبور کیا۔ اگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو نہ جہاد سے یہ بھاگتے نہ شکوک و شبہات ان کے دلوں میں پیدا ہوتے۔
ملحوظہ: خیال رہے کہ اس جہاد میں شرکت کے معاملے میں مسلمانوں کی چار قسمیں تھیں۔
پہلی قسم: وہ مسلمان جو بلا تامل تیار ہوگئے۔ دوسرے، وہ جنہیں ابتداء تردد ہوا اور ان کے دل ڈولے، لیکن پھر جلد ہی اس تردد سے نکل آئے۔ تیسرے، وہ جو ضعف اور بیماری یا سواری اور سفر خرچ نہ ہونے کی وجہ سے فی الواقع جانے سے معذور تھے اور جنہیں خود اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی تھی۔ (ان کا ذکر آیت 91- 92 میں ہے) چوتھی قسم، وہ جو محض کاہلی کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔ اور جب نبی (صلى الله عليه وسلم) واپس آئے تو انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کرکے اپنے آپ کو توبہ اور سزا کے لئے پیش کردیا۔ ان کے علاوہ باقی منافقین اور ان کے جاسوس تھے، یہاں مسلمانوں کے پہلے گروہ اور منافقین کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کی باقی تین قسموں کا بیان آگے چل کر آئے گا۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net