At-Tawba 9:32
التوبةيُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَـٰفِرُونَ
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر نا خوش رہیں۔[1]
[1] یعنی اللہ نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، یہود و نصاریٰ اور مشرکین چاہتے ہیں کہ اپنے جدال و افترا سے اس کو مٹا دیں۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص سورج کی شعاعوں کو یا چاند کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دے پس! جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح جو دین حق اللہ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے اس کا مٹانا بھی ناممکن ہے۔ وہ تمام دینوں پر غالب آ کر رہے گا، جیسا کہ اگلے جملے میں اللہ نے فرمایا، کافر کے لغوی معنی ہیں چھپانے والا اسی لئے رات کو بھی 'کافر' کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو اپنے اندھیروں میں چھپا لیتی ہے کاشت کار کو بھی 'کافر' کہتے ہیں کیونکہ وہ غلے کے دانوں کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ گویا کافر بھی اللہ کے نور کو چھپانا چاہتے ہیں یا اپنے دلوں میں کفر و نفاق اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بغض و عناد چھپائے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہیں کافر کہا جاتا ہے۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net