سیدھے مواد پر جائیں
سورت 9 · آیت 123

At-Tawba 9:123

التوبة

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَـٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا۟ فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

معنی

اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں[1] اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے[2]۔ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

[1] اس میں کافروں سے لڑنے کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔ کہ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ اور الأَقْرَبُ فَالأَقْرَبُ کے مطابق کافروں سے جہاد کرنا ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے پہلے جزیرہ، عرب میں آباد مشرکین سے قتال کیا، جب ان سے فارغ ہوگئے اور اللہ تعالٰی نے مکہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضر موت وغیرہ ممالک پر مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما دیا اور عرب کے سارے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے، تو پھر اہل کتاب سے قتال کا آغاز فرمایا اور 9 ہجری میں رومیوں سے قتال کے لئے تبوک تشریف لے گئے جو جزیرہ، عرب سے قریب ہے اسی کے مطابق آپ (صلى الله عليه وسلم) کی وفات کے بعد خلفائے راشدین نے روم کے عیسائیوں سے قتال فرمایا، اور ایران کے مجوسیوں سے جنگ کی۔
[2] یعنی کافروں کے لئے، مسلمانوں کے دلوں میں نرمی نہیں سختی ہونی چاہیے جیسا کہ «اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ» (الفتح: 29) صحابہ کی صفت بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح «اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ( المائدہ: 54) اہل ایمان کی صفت ہے۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

At-Tawba

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net