سیدھے مواد پر جائیں
سورت 8 · آیت 63

Al-Anfaal 8:63

الأنفال

وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

معنی

ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے[1] وه غالب حکمتوں واﻻ ہے۔

[1] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلى الله عليه وسلم) اور مومنوں پر جو احسانات فرمائے، ان میں سے ایک بڑے احسان کا ذکرفرمایا ہے ۔ وہ یہ کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مومنین کے ذریعے سے مدد فرمائی، وہ آپ کے دست وبازو اور محافظ ومعاون بن گئے ۔ مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی، اسے محبت والفت میں تبدیل فرما دیا۔ پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب ایک دوسرے کے جانثار بن گئے، پہلے ایک دوسرے کے دلی دشمن تھے،اب آپس میں رحیم وشفیق ہوگئے۔ صدیوں پرانی باہمی عداوتوں کو اس طرح ختم کرکے، باہم پیار اور محبت پیدا کر دینا، یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کی قدرت ومشیت کی کار فرمائی تھی، ورنہ یہ ایسا کام تھا کہ دنیا بھر کے خزانے بھی اس پر خرچ کر دیئے جاتے تب بھی یہ گوہر مقصود حاصل نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر سورۂ آل عمران 103 ﴿إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَآءٗ فَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِكُمۡ﴾ میں بھی فرمایا ہے اور نبی (صلى الله عليه وسلم) نے غنائم حنین کے موقع پر انصار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے جماعت انصار! کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ تم گمراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی تم محتاج تھے، اللہ نے تمہیں میرے ذریعے سے خوشحال کر دیا اور تم ایک دوسرے سے الگ الگ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں آپ میں جوڑ دیا نبی (صلى الله عليه وسلم) جو بات کہتے، انصار اس کے جواب میں یہی کہتے اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ”اللہ اور اس کے رسول کے احسانات اس سے کہیں زیادہ ہیں“۔ ( صحيح بخاري، كتاب المغازي، باب غزوة الطائف- صحيح مسلم- كتاب الزكاة باب إعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام)

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Al-Anfaal

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net