Al-Insaan 76:7
الانسانيُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًا
جو نذر پوری کرتے ہیں[1] اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے.[2]
[1] یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔ چنانچہ حدیث میں ہے ”جس شخص نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا، تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے معصیت الٰہی کی نذر مانی ہے تو، وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے“، یعنی اسے پورا نہ کرے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب النذر فی الطاعة)
[2] یعنی اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net