سیدھے مواد پر جائیں
سورت 59 · آیت 12

Al-Hashr 59:12

الحشر

لَئِنْ أُخْرِجُوا۟ لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا۟ لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ ٱلْأَدْبَـٰرَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

معنی

اگر وه جلاوطن کیے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد (بھی) نہ کریں[1] گے اور اگر (بالفرض) مدد پر آبھی گئے[2] تو پیٹھ پھیر کر (بھاگ کھڑے) ہوں[3] گے پھر مدد نہ کیے جائیں گے.[4]

[1] یہ منافقین کے گزشتہ جھوٹے وعدوں ہی کی مزید تفصیل ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، بنو نضیر، جلاوطن اور بنو قریظہ قتل اور اسیر کیے گئے، لیکن منافقین کسی کی مدد کو نہیں پہنچے۔
[2] یہ بطور فرض، بات کی جارہی ہے، ورنہ جس چیز کی نفی اللہ تعالیٰ فرما دے، اس کا وجود کیوں کر ممکن ہے، مطلب ہے کہ اگر یہود کی مدد کرنے کا ارادہ کریں۔
[3] یعنی شکست کھا کر۔
[4] مراد یہود ہیں، یعنی جب ان کے مددگار منافقین ہی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے تو یہود کس طرح منصور وکامیاب ہوں گے؟ بعض نے اس سے مراد منافقین لیے ہیں کہ وہ مدد نہیں کیے جائیں گے ، بلکہ اللہ ان کو ذلیل کرے گا اور ان کا نفاق ان کے لیے نافع نہیں ہوگا۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Al-Hashr

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net