Al-Hadid 57:8
الحديدوَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۙ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـٰقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں ﻻتے؟ حاﻻنکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان ﻻنےکی دعوت دے رہا ہے اور اگر تم مومن ہو تو وه تو تم سے مضبوط عہد وپیمان بھی لے چکا ہے.[1]
[1] ابن کثیر نے اخذ کافاﻋل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بعیت لی جو رسول ﹲ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) سے لیتے تھےکہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں سمع وطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کےنزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم (عليه السلام) کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورۃ الاعراف: 172 میں ہے۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net