Al-Qamar 54:1
القمرٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ
قیامت قریب آ گئی[1] اور چاند پھٹ گیا.[2]
[1] ایک تو بہ اعتبار اس زمانےکے جو گزر گیا،کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے، ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سےمتصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئےگا۔
[2] یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا، چاندکے دو ٹکڑے ہو گئے حتیٰ کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ (صحيح بخاري، كتاب مناقب الأنصار، باب انشقاق القمر وتفسير سورة اقتربت الساعة، وصحيح مسلم كتاب صفة القيامة، باب انشقاق القمر) جمہور سلف وخلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں ”علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے میں ہوا اور یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند سے ثابت احادیث متواترہ اس پردلالت کرتی ہیں“۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net