Al-Ahqaf 46:3
الأحقافمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَمَّآ أُنذِرُوا۟ مُعْرِضُونَ
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے[1] ، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں.[2]
[1] یعنی آسمان وزمین کی پیدائش کا ایک خاص مقصد بھی ہے اور وہ ہے انسانوں کی آزمائش۔ دوسرا، اس کے لئے ایک وقت بھی مقرر ہے۔ جب وہ وقت موعود آجائے گا تو آسمان وزمین کا یہ موجودہ نظام سارا بکھر جائے گا۔ نہ آسمان، یہ آسمان ہوگا، نہ زمین، یہ زمین ہوگی۔«يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» (سورة إبراهيم: 48)
[2] یعنی عدم ایمان کی صورت میں بعث، حساب اور جزا سے جو انہیں ڈرایا جاتا ہے، وہ اس کی پرواہی نہیں کرتے، اس پر ایمان لاتے ہیں، نہ عذاب اخروی سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net