سیدھے مواد پر جائیں
سورت 45 · آیت 30

Al-Jaathiya 45:30

الجاثية

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ

معنی

پس لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام [1] کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا[2]، یہی صریح کامیابی ہے.

[1] یہاں بھی ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر کرکے اس کی اہمیت واضح کردی اور عمل صالح وہ اعمال خیر ہیں جو سنت کے مطابق ادا کیے جائیں نہ کہ ہر وہ عمل جسے انسان اپنے طور پر اچھا سمجھ لے اور اسے نہایت اہتمام اور ذوق وشوق کے ساتھ کرے جیسے بہت سی بدعات مذہبی حلقوں میں رائج ہیں اور جو ان حلقوں میں فرائض وواجبات سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے فرائض و سنن کا ترک تو ان کے ہاں عام ہے لیکن بدعات کا ایسا التزام ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوتاہی کا تصور ہی نہیں ہے۔ حالانکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بدعات کو شرالامور (بدترین کام) قرار دیا ہے۔
[2] رحمت سے مراد جنت ہے، یعنی جنت میں داخل فرما ئے گا، جیسے حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جنت سے فرمائےگا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ (صحيح بخاري ، تفسير سورة ق) ”تو میری رحمت ہے تیرے ذریعے سے (یعنی تجھ میں داخل کرکے) میں جس پر چاہوں گا، رحم کروں گا“۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Al-Jaathiya

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net