سیدھے مواد پر جائیں
سورت 43 · آیت 46

Az-Zukhruf 43:46

الزخرف

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَقَالَ إِنِّى رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

معنی

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں.[1]

[1] قریش مکہ نے کہا تھا کہ اگر اللہ کسی کو نبی بناکر بھیجتا ہی تو مکے اور طائف کے کسی ایسے شخص کو بھیجتا جو صاحب مال وجاہ ہوتا۔ جیسے فرعون نے بھی حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے مقابلے میں کہا تھا کہ میں موسیٰ سے بہتر ہوں (اور یہ مجھ سے کمتر ہے، یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا) جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ غالباً اسی مشابہت احوال کی وجہ سے یہاں حضرت موسیٰ (عليه السلام) وفرعون کا قصہ دہرایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں حضرت نبی کریم (عليه السلام) کے لیے بھی تسلی کا پہلو ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو بھی بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، انہوں نے صبر اور عزم سے کام لیا، اسی طرح آپ بھی کفار مکہ کی ایذاؤں اور ناروا رویوں سے دل برداشتہ نہ ہوں، صبر اور حوصلے سے کام لیں۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) ہی کی طرح بالآخر فتح وکامرانی آپ ہی کی ہے اور یہ اہل مکہ فرعون ہی کی طرح ناکام ونامراد ہوں گے۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Az-Zukhruf

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net