Ash-Shura 42:20
الشورىمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلْـَٔاخِرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْثِهِۦ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
جس کا اراده آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے[1] اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے[2]، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں.[3]
[1] حَرَثٌ کے معنی تخم ریزی کے ہیں۔ یہاں یہ بہ طریق استعارہ اعمال کے ثمرات وفوائد پر بولا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے اعمال ومحنت کے ذریعے سے آخرت کے اجر وثواب کا طالب ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی کھیتی میں اضافہ فرمائے گا کہ ایک ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک بھی عطا فرمائے گا۔
[2] یعنی طالب دنیا کو دنیا تو ملتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔
[3] یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ بنی اسرائیل: 18 میں بھی بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اتنی ضرور دیتا ہے جتنی اس نے لکھ دی ہے، کیونکہ وہ سب کی روزی کا ذمہ لئے ہوئے ہے، طالب دنیا کو بھی اور طالب آخرت کو بھی۔ تاہم جو طالب آخرت ہوگا یعنی آخرت کے لیے کسب و محنت کرے گا تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً اجر وثواب عطا فرمائے گا، جب کہ کے لئے آخرت میں سوائے جہنم کے عذاب کے کچھ نہیں ہوگا ۔اب یہ انسان کو خود سوچ لینا چاہیئے کہ اس کا فائدہ طالب دنیا بننے میں ہے یا طالب آخرت بننے میں۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net