Al-Ghaafir 40:19
غافريَعْلَمُ خَآئِنَةَ ٱلْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى ٱلصُّدُورُ
وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے.[1]
[1] اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کامل کا بیان ہے کہ اسے تمام اشیا کا علم ہے۔ چھوٹی ہو یا بڑی، باریک ہو یا موٹی، اعلیٰ مرتبے کی ہو یا چھوٹے مرتبے کی۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ جب اس کے علم واحاطہ کا یہ حال ہے تو اس کی نافرمانی سے اجتناب اور صحیح معنوں میں اس کا خوف اپنےاندر پیدا کرے۔ آنکھوں کی خیانت یہ ہے کہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا جائے۔ جیسے راہ چلتے کسی حسین عورت کو کنکھیوں سےدیکھنا۔ (سینوں کی باتوں میں) وہ وسوسے سےبھی آجاتے ہیں جوانسان کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، وہ جب تک وسوسےہی رہتےہیں یعنی ایک لمحۂ گزراں کی طرح آتے اور ختم ہو جاتے ہیں، تب تک تو وہ قابل مواخدہ نہیں ہوں گے۔ لیکن جب وہ عزائم کا روپ دھارلیں تو پھر ان کا مواخدہ ہو سکتا ہے، چاہےان پر عمل کرنے کا انسان کوموقع نہ ملے۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net