سیدھے مواد پر جائیں
سورت 37 · آیت 89

As-Saaffaat 37:89

الصافات

فَقَالَ إِنِّى سَقِيمٌ

معنی

اور کہا میں تو بیمار ہوں.[1]

[1] آسمان پر غور وفکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں موثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم (عليه السلام) تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ کیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائے گی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتلاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی تو نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے دل کا ایک مستقل روگ تھا، جسے دیکھ کر وہ کڑھتے رہتے تھے۔ یوں حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے تعریض اور توریے کا اظہار فرمایا جو اگرچہ جھوٹ نہیں ہوتا لیکن مخاطب اس کے متبادر مفہوم سے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے حدیث ثلاث کذبات میں اسے جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورۂ انبیاء: 63 میں گزر چکی ہے۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

As-Saaffaat

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net