Saba 34:54
سبإوَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ فِى شَكٍّ مُّرِيبٍۭ
ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا[1] جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا[2]، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے.[3]
[1] یعنی آخرت میں وہ چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول کرلیا جائے، عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، لیکن ان کے درمیان اور ان کی اس خواہش کے درمیان پردہ حائل کردیا یعنی اس خواہش کو رد کردیا جائے گا۔
[2] یعنی پچھلی امتوں کا ایمان اس وقت قبول نہیں کیا گیا جب وہ عذاب کے معائنے کے بعد ایمان لائیں۔
[3] اس لئے اب معائنہ عذاب کے بعد ان کا ایمان بھی کس طرح قبول ہوسکتا ہے؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ریب وشک سے بچو، جو شک کی حالت میں فوت ہوگا، اسی حالت میں اٹھے گا اور جو یقین پر مرے گا، قیامت والے دن یقین پر ہی اٹھے گا۔ (ابن کثیر)۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net