سیدھے مواد پر جائیں
سورت 3 · آیت 111

Aal-i-Imraan 3:111

آل عمران

لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًى ۖ وَإِن يُقَـٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

معنی

یہ تمہیں ستانے کے سوا اور زیاده کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے، اگر لڑائی کا موقعہ آجائے تو پیٹھ موڑ لیں گے، پھر مدد نہ کیے جائیں گے.[1]

[1] أَذًى( ستانے) سے مراد زبانی بہتان تراشی اور افترا ہے جس سے دل کو وقتی طور پر ضرور تکلیف پہنچتی ہے تاہم میدان حرب وضرب میں یہ تمہیں شکست نہیں دے سکیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مدینہ سے بھی یہودیوں کو نکلنا پڑا، پھر خیبر فتح ہو گیا اور وہاں سے بھی نکلے، اسی طرح شام کے علاقوں میں عیسائیوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ تاآنکہ حروب صلیبیہ میں عیسائیوں نے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کی اور بیت المقدس پر قابض بھی ہوگئے مگر اسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے سال کے بعد واگزار کرالیا۔ لیکن اب مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کے نتیجہ میں یہود ونصاریٰ کی مشترکہ سازشوں اور کوششوں سے بیت المقدس پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ تاہم ایک وقت آئے گا یہ صورت حال تبدیل ہو جائے گی بالخصوص حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے نزول کے بعد عیسائیت کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ یقینی ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ (ابن کثیر )

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Aal-i-Imraan

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net