Al-Ankaboot 29:24
العنكبوتفَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو[1] ۔ آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا[2]، اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں.
[1] ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا قصہ بیان ہو رہا تھا، اب پھر اس کا بقیہ بیان کیا جارہا ہے۔ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت وطاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب حضرت ابراہیم (عليه السلام) ہی کے وعظ کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے توحید ومعاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں، جن کا کوئی جواب جب ان کی قوم سےنہیں بنا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم وتشدد کی اس کارروائی سے دیا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو۔ چنانچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کرکے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو منجنیق کے ذریعے سے اس میں پھینک دیا۔
[2] یعنی اللہ نے اس آگ کو گلزار کی صورت میں بدل کر اپنے بندے کو بچا لیا، جیسا کہ سورہ انبیاء میں گزرا۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net