سیدھے مواد پر جائیں
سورت 27 · آیت 87

An-Naml 27:87

النمل

وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٰخِرِينَ

معنی

جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے[1] مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے[2]، اور سارے کے سارے عاجز وپست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے.

[1] صور سے مراد وہی قرن ہے جس میں اسرافیل (عليه السلام) اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے۔ یہ نفخے دو یا دو سے زیادہ ہوں گے۔ پہلے نفخے (پھونک) میں ساری دنیا گھبرا کر بےہوش اور دوسرے نفخے میں موت سے ہمکنار ہوجائے گی۔ تیسرے نفخے میں سب لوگ قبروں سے زندہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے اور بعض کے نزدیک ایک اور چوتھا نفخہ ہوگا جس سے سب لوگ میدان محشر میں اکٹھے ہو جائیں گے۔ یہاں کون سا نفخہ مراد ہے؟ امام ابن کثیر کے نزدیک یہ پہلا نفخہ اور امام شوکانی کے نزدیک تیسرا نفخہ ہے جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔
[2] یہ مستثنیٰ لوگ کون ہوں گے۔ بعض کے نزدیک انبیا وشہدا، بعض کے نزدیک فرشتے اور بعض کے نزدیک سب اہل ایمان ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تمام مذکورین ہی اس میں شامل ہوں کیونکہ اہل ایمان حقیقی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے (جیسا کہ آگے آرہا ہے)

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

An-Naml

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net