سیدھے مواد پر جائیں
سورت 27 · آیت 39

An-Naml 27:39

النمل

قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ

معنی

ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے[1] اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس ﻻدیتا[2] ہوں، یقین مانیے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار.[3]

[1] اس سے وہ مجلس مراد ہے، جو مقدمات کی سماعت کے لیے حضرت سلیمان (عليه السلام) صبح سے نصف النہار تک منعقد فرماتے تھے۔
[2] اس سےمعلوم ہوا کہ وہ یقیناً ایک جن ہی تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلے میں غیر معمولی قوتوں سے نوازا ہے . کیونکہ کسی انسان کے لیے چاہے وہ کتنا ہی زور آور ہو، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ بیت المقدس سے مآرب یمن (سبا) جائے اور پھر وہاں سے تخت شاہی اٹھالائے۔ اور ڈیڑھ ہزار میل کا یہ فاصلہ جسے دو طرفہ شمار کیا جائے تو تین ہزار میل بنتا ہے، 4،3 گھنٹے میں طے کرلے۔ ایک طاقت ور سے طاقت ور انسان بھی اول تو اتنے بڑے تخت کو اٹھا ہی نہیں سکتا اور اگر وہ مختلف لوگوں یا چیزوں کا سہارا لے کر اٹھوا بھی لے تو اتنی قلیل مدت میں اتنا سفر کیوں کر ممکن ہے۔
[3] یعنی میں اسے اٹھا کر لا بھی سکتا ہوں اور اس کی کسی چیز میں ہیرا پھیری بھی نہیں کروں گا۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

An-Naml

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net