سیدھے مواد پر جائیں
سورت 26 · آیت 189

Ash-Shu'araa 26:189

الشعراء

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ ٱلظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

معنی

چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا[1] ۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.

[1] انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل فرمادیا اور وہ اس طرح کہ بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا اور یہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے اس سائے تلے جمع ہوگئے اور کچھ سکھ کا سانس لیا۔ لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انہیں ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلادیا۔ یوں تین قسم کا عذاب ان پر آیا اور یہ اس دن آیا جس دن ان پر بادل سایہ فگن ہوا، اس لیے فرمایا کہ سائے والے دن کے عذاب نے انہیں پکڑ لیا۔
امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تین مقامات پر قوم شعیب (عليه السلام) کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے اور تینوں جگہ موقع کی مناسبت سے الگ الگ عذاب کا ذکر کیا ہے۔ سورۂ اعراف ، 88 میں زلزلہ کا ذکر ہے، سورۂ ہود، 94 میں صيحة(چیخ) کا اور یہاں شعراء میں آسمان سے ٹکڑے گرانے کا۔ یعنی تین قسم کا عذاب اس قوم پر آیا۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Ash-Shu'araa

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net