سیدھے مواد پر جائیں
سورت 21 · آیت 107

Al-Anbiyaa 21:107

الأنبياء

وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَـٰلَمِينَ

معنی

اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے.[1]

[1] اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کر لیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ (صلى الله عليه وسلم) پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کر دی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لیے بد دعا نہ کرنا یہ بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رحمت کا ایک حصہ تھا۔ «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا بُعِثْتُ رَحْمَةً» (صحيح مسلم نمبر:2006) اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رحمت کا حصہ ہے (مسند أحمد 5/ 437 أبو داود نمبر 4659 والأحاديث الصحيحة للألباني نمبر1758) اسی لیے ایک حدیث میں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا «إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» (صحيح الجامع الصغير نمبر2345) میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اہل جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Al-Anbiyaa

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net