سیدھے مواد پر جائیں
سورت 110 · آیت 2

An-Nasr 110:2

النصر

وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًا

معنی

اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے.[1]

[1] اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کا مولد ومسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا، چنانچہ جب 8 ہجری میں یہ مکہ فتح ہو گیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے۔ فتح مکہ سے لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے،جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نےفرمایا جب ایسا ہو تو۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

An-Nasr

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net