سیدھے مواد پر جائیں
سورت 1 · آیت 4

Al-Faatiha 1:4

الفاتحة

مَـٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ

معنی

بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔[1]

[1] دنیا میں بھی اگرچہ مکافات عمل کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے، تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا اور سزا دے گا۔ اسی طرح دنیا میں عارضی طور پر اور بھی کئی لوگوں کے پاس تحت الاسباب اختیارات ہوتے ہیں، لیکن آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس روز فرمائے گا: «لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ» (غافر: 16) ”آج کس کی بادشاہی ہے؟“ پھر وہی جواب دے گا: «لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ» (غافر: 16) ”صرف ایک غالب اللہ کے لئے“ «يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡ‍ٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ» (الانفطار: 19) ”اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔“ یہ ہوگا جزا کا دن۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Al-Faatiha

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net