سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 602

نمبر 602کتاب 6، نمبر 59
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذَا الْحَرْفِ ‏(‏غَيرِ آسِنٍ‏)‏ أَوْ يَاسِنٍ قَالَ كُلَّ الْقُرْآنِ قَرَأْتَ غَيْرَ هَذَا الْحَرْفِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَهُ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ إِنِّي لأَعْرِفُ السُّوَرَ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرْنَا عَلْقَمَةَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَ كُلِّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے لفظ «غَيْرِ آسِنٍ» یا «يَاسِنٍ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورا قرآن پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: ایک قوم اسے ایسے پڑھتی ہے جیسے کوئی خراب کھجور جھاڑ رہا ہو، یہ ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھتا، میں ان متشابہ سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے۔ ابووائل کہتے ہیں: ہم نے علقمہ سے پوچھنے کے لیے کہا تو انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا: انہوں نے بتایا کہ یہ مفصل کی بیس سورتیں ہیں ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: يَاسِنٍ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 6 · The Book on Traveling

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔