سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3892

نمبر 3892کتاب 49، نمبر 292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا كِنَانَةُ، قَالَ حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ كَلاَمٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ قُلْتِ فَكَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ وَأَبِي هَارُونُ وَعَمِّي مُوسَى ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا نَحْنُ أَكْرَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا ‏.‏ وَقَالُوا نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَنَاتُ عَمِّهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْكُوفِيُّ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ ‏.‏
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک ( تکلیف دہ ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • Daif IsnaadAhmad Muhammad Shakir
  • Daif IsnaadAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 49 · Chapters on Virtues

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔