سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3807

نمبر 3807کتاب 49، نمبر 207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَنْ، بِأَقْرَبِ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدْيًا وَدَلاًّ فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ قَالَ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلاًّ وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى يَتَوَارَى مِنَّا فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Sahih BukhariZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 49 · Chapters on Virtues

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔