سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3575

نمبر 3575کتاب 48، نمبر 206
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْنَا فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَنَا - قَالَ - فَأَدْرَكْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏:‏ ‏(‏ هوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَتُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو سَعِيدٍ الْبَرَّادُ هُوَ أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ مَدَنِيٌّ ‏.‏
عبداللہ بن خبیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں، چنانچہ میں آپ کو پا گیا، آپ نے فرمایا: ”کہو ( پڑھو ) “، تو میں نے کچھ نہ کہا: ”کہو“ آپ نے پھر فرمایا، مگر میں نے کچھ نہ کہا، ( کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں؟ ) آپ نے پھر فرمایا: ”کہو“، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور «المعوذتين» ( «قل أعوذ برب الفلق»،‏‏‏‏ «قل أعوذ برب الناس» ) صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ ( سورتیں ) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوسعید براد: یہ اسید بن ابی اسید مدنی ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • HasanAhmad Muhammad Shakir
  • HasanAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 48 · Chapters on Supplication

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔