سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3364

نمبر 3364کتاب 47، نمبر 416
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ، هُوَ الصَّغَانِيُّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ، قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ قلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ ‏)‏ فَالصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ لأَنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُولَدُ إِلاَّ سَيَمُوتُ وَلَيْسَ شَيْءٌ يَمُوتُ إِلاَّ سَيُورَثُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ يَمُوتُ وَلاَ يُورَثُ ‏:‏ ‏(‏ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ‏)‏ قَالَ ‏"‏ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَبِيهٌ وَلاَ عِدْلٌ وَلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ‏"‏ ‏.‏
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ ( الاخلاص: ۱-۲ ) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • HasanAhmad Muhammad Shakir
  • HasanAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 47 · Chapters on Tafsir

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔