سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3357

نمبر 3357کتاب 47، نمبر 409
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏ثمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ‏)‏ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَىِّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الأَسْوَدَانِ وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ وَسُيُوفُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ هَذَا ‏.‏ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ وَأَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں ( ایک کھجور دوسرا پانی ) ( ہمارا ) دشمن ( سامنے ) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎۔ آپ نے فرمایا: ” ( تمہیں ابھی معلوم نہیں ) عنقریب ایسا ہو گا ( کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ( یعنی پچھلی روایت ) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • Hasan LighairihiAhmad Muhammad Shakir
  • HasanAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 47 · Chapters on Tafsir

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔