نمبر 3349کتاب 47، نمبر 401
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَجَاءَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَزَبَرَهُ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا بِهَا نَادٍ أَكْثَرُ مِنِّي فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( فلْيَدْعُ نَادِيَهُ * سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ . وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» ”اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں“ ( العلق: ۱۷-۱۸ ) ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
ماخذ میں درج درجات
- Sahih IsnaadAhmad Muhammad Shakir
- Sahih IsnaadAl-Albani
- Hasan SahihBashar Awad Maarouf
- DaifZubair Ali Zai